ہاتھ آ گیا ہے جام تو دستِ رسا پہ ناز
محروم رہ گئے تو لکھا تھا نصیب میں
معلیٰ
محروم رہ گئے تو لکھا تھا نصیب میں
ہم ایک دوسرے کا سہارا لیے ہوئے
میرا کیا جُرم ہے آخر مجھے معلوم تو ہو
ہنستا رہا کوئی پسِ دیوارِ آرزو
دے دیا دنیا کو ہم نے آئینہ خانے کا نام
آج معلوم ہوئی وقت کی رفتار مجھے
ترے اصولوں کو توڑتے ہیں
پھرتا ہوں اپنے دل میں لیے خواہشیں بہت
جس تشنہ لب کا حق ہے اِسی کو یہ جام دو
ہم اپنے سامنے حیراں کھڑے ہیں مری آنکھیں تو پیاسی ہیں سحر کی ستارے کیوں اُترتے آ رہے ہیں نہیں، یہ خواب کا عالم نہیں ہے یہ سب منظر تو جیتے جاگتے ہیں دیارِ شب کے سنّاٹے میں ہم نے نگارِ صبح کے نغمے سُنے ہیں ابھی کچھ رنگ ہیں دِل بستگی کے ابھی کچھ […]