اُنگشت بہ دنداں ہیں فصیحانِ زمانہ
ایسا ہے لبِ یوحٰی کا انداز یگانہ گر خواب میں آجائے وہ من موہنی صورت پھر نیندسے جاگے نہ کبھی اُن کا دوانہ اُس خاکِ مدینہ کے ہی صدقے یہ نسب ہے نسبت میں ترابی ہوں یہی میرا خزانہ ایقان ہے محشر میں ملے گی مجھے بخشش اور مدحِ شہِ کون و مکاں ہو گی […]