اُنگشت بہ دنداں ہیں فصیحانِ زمانہ

ایسا ہے لبِ یوحٰی کا انداز یگانہ گر خواب میں آجائے وہ من موہنی صورت پھر نیندسے جاگے نہ کبھی اُن کا دوانہ اُس خاکِ مدینہ کے ہی صدقے یہ نسب ہے نسبت میں ترابی ہوں یہی میرا خزانہ ایقان ہے محشر میں ملے گی مجھے بخشش اور مدحِ شہِ کون و مکاں ہو گی […]

نعت اُتری درِ اِرم چوما

میم جب جب لکھا قلم چوما ہوں گے نازاں لبانِ روحِ امیں اور کس نے ترا قدم چوما؟ نقشِ نعلین جب بھی چوما ہے یہ قلق ہی رہا ہے کم چوما سُن کے اسمِ نبی انگوٹھوں کو سارے عُشّاق نے بہم چوما لمحہ لمحہ سبھی مناظر نے گنبدِ سبز دم بہ دم چوما سنگِ اسود […]

یم بہ یم صبح و مسا ستر ہزار

قدسیانِ عرش ہیں گِردِ مزار یاوری پر ہے مقدر آج پھر آپ کے در پر کھڑا ہوں اشک بار امن گاہِ خیر ہے بر عاصیاں یہ درِ خیر الورٰی ہے غم گسار محتسب کے ہاتھ ہے فردِ عمل کر نگاہِ عفو میرے کردگار مژدۂ فَلْیَفْرَحُوْا لائے بشیر تھی فضاے دہر ورنہ سوگوار نور آیا ہے […]

مطلعِ نعت ہے سب زورِ بیاں ہے خاموش

دل دھڑکتا ہی نہیں اور زباں ہے خاموش نامۂ زیست خسارہ ہی خسارہ تھا مگر روبہ رو آپ کے ہر ایک زیاں ہے خاموش جوشِ رحمت ہے نرالا سرِ محشر اُن کا جائے وحشت میں جہاں جسمِ اماں ہے خاموش جب سے دیکھا ہے ترے گنبدِ اخضر کی طرف آنکھ پتھرا سی گئی سارا سماں […]

کلیدِ حمد و ثنا لا الہ الا اللہ

خلاصہ ہائے دعا لا الہ الا اللہ پہیلیاں ہیں فقیہوں کے دین کی شرحیں قلندروں کی صدا لا الہ الا اللہ حیات و موت کو آسان کر لیا میں نے بنا کے راہ نما لا الہ الا اللہ بہ پیشِ دبدبۂ خسروانِ تیغ بدست زباں پہ آ ہی گیا لا الہ الا اللہ ہمہ خیال […]

کرم ایسا کیا اے مالکِ کون و مکاں تو نے

کہ ہم پر سہل کر دی گردشِ ہفت آسماں تو نے اُٹھایا ایک لفظِ کُن سے یہ ہنگامۂ عالم کیا اُمی لقب کو سرورِ کون و مکاں تو نے ہمیں کونین میں خیر الامم کا مرتبہ بخشا بنا کر اُمتِ پیغمبر ہر دو جہاں تو نے ہم ایسے خاک کے ذروں کو مہر و ماہ […]

ہم پہ ہو تیری رحمت جَم جَم صلی اللہ علیک و سلم

تیرے ثنا خوان عالم عالم صلی اللہ علیک و سلم ہم ہیں تیرے نام کے لیوا اے دھرتی کے پانی دیوا یہ دھرتی ہے برہم برہم صلی اللہ علیک و سلم تیری رسالت عالم عالم تیری نبوت خاتم خاتم تیری جلالت پرچم پرچم صلی اللہ علیک و سلم دیکھ تری اُمت کی نبضیں ڈوب چکی […]

عزمِ سفر

نقد جاں لے کے چلو دیدۂ تر لے کے چلو گھر سے نکلو تو یہی رختِ سفر لے کے چلو سامنے سرورِ کونین کا دروازہ ہے کوئی تو بات بہ عنوانِ دگر لے کے چلو نعت گوئی کی تمنا ہے تو اس کوچہ میں رومیؔ و جامیؔ و قدسیؔ کا اثر لے کے چلو حُسن […]