صباؔ نعتِ رسولِ پاک اپنے ہاتھ میں رکھو
شفاعت کی سند لے کر چلو دربارِ داور میں
معلیٰ
شفاعت کی سند لے کر چلو دربارِ داور میں
ہماری مغفرت نعتِ نبی ہے
خدا کا ہمیں اعتبار آ گیا
زندہ رہیں گے نام ہمارے فنا کے بعد
دشوار تھا یہ مرحلہ آساں ہونا اے محسنِ انسان ترے صدقے میں انسان کو آ گیا ہے انساں ہونا
کئی لوگوں سے ملنا تھا کئی قبروں پہ جانا تھا وہی مایوسیاں بستی میں اب تک راج کرتی تھیں انہیں سانپوں کا ہر چوپال پر حجرہ ٹھکانا تھا
کیا یقیں اب نجات میں رکھنا
وہ میرے ہاتھوں میں کچھ پھول دیکھتا ہے ابھی
قفس میں خوش ہیں جو ان پر نئے عذاب نہ بھیج
باپ کو بچے کا دل آخر مسلنا ہی پڑا