ہر چند زمانے کی فضا پُر فن ہے
عالم ہے خلاف اور ہوا دشمن ہے دنیا میں جلایا تھا جو احمد نے چراغ چودہ سو برس سے آج تک روشن ہے
معلیٰ
عالم ہے خلاف اور ہوا دشمن ہے دنیا میں جلایا تھا جو احمد نے چراغ چودہ سو برس سے آج تک روشن ہے
مری زبان پر ہے یا حبیبی ، مرا وظیفہ ہے یا محمد
ہے نامِ محمد تو ہے رتبہِ محمود اُمیدِ شفاعت ہے گنہ گاروں کو ہیں اشکِ ندامت مری آنکھوں کے درود
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی
نظر آتا ہے اب رنگِ زمین و آسماں بدلا
مجھے میرا رب ہے کافی مجھے کُل جہاں نہ پوچھے
کسی کی طبعِ نازک پر گراں معلوم ہوتا ہوں
کیا جنوں میں ابھی آمیزشِ دانائی ہے ؟
اور اب جو پہلو کو دیکھتا ہوں تو دل نہیں ہے ، جگر نہیں ہے
منکشف جس پر حقیقت ہو گئی