اپنی خوں گشتہ تمناؤں پہ میری یہ ہنسی
اک نئے اسلوبِ ماتم کے سوا کچھ بھی نہیں
معلیٰ
اک نئے اسلوبِ ماتم کے سوا کچھ بھی نہیں
ہم یونہی بیٹھ گئے تھے تری دیوار کے پاس
وہ بت بھی شان دکھانے لگے خدا کی طرح
مجمع میں جو کھڑے تھے کلیمی عصا لیے
الزام میرے قتل کا میرے ہی سر گیا
مگر یہ رات کے لمحے کہاں قیام کروں
جو آشنا ہو تو پیش آؤ آشنا کی طرح
رفتہ رفتہ رات آئی بڑھ گیا پُروا کا شور بادلوں کی فوج نے مل کر مچایا اک شور پھر ذرا سی دیر میں جھکڑ چلا اک زور کا پیش خیمہ بن کے اِک طوفان کا آئی ہوا دُور اُفق پر چھا گئی گھنگھور اور کالی گھٹا مست ہاتھی کی طرح جھومی وہ متوالی گھٹا کس […]
درِ غیر پہ ٹھکانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا جہاں یار ہو نہ میرا ، ہو جہاں نہ اُس کا پھیرا وہاں میرا آنا جانا ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا ترا ذکرِ خیر دلبر ، ہے ازل سے میرے لب پر کسی اور کا فسانہ […]
ورنہ تو حرف خود ہی سُبک سارِ حرف ہے واللہ ، تیرے نام سے ہے آبروئے نطق واللہ ، تیری نعت سے پندارِ حرف ہے تُو خامہ و بیاں کی ہے آخری طلب تُو ہی کرم نواز و شرَف بارِ حرف ہے اِک نام ہے جو کھولتا ہے بابِ معرفت ورنہ تو سب حجاب ہے […]