طُوفانی رات کے چند شعر

رفتہ رفتہ رات آئی بڑھ گیا پُروا کا شور بادلوں کی فوج نے مل کر مچایا اک شور پھر ذرا سی دیر میں جھکڑ چلا اک زور کا پیش خیمہ بن کے اِک طوفان کا آئی ہوا دُور اُفق پر چھا گئی گھنگھور اور کالی گھٹا مست ہاتھی کی طرح جھومی وہ متوالی گھٹا کس […]

ترے در سے اُٹھ کے جانا ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا

درِ غیر پہ ٹھکانہ ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا جہاں یار ہو نہ میرا ، ہو جہاں نہ اُس کا پھیرا وہاں میرا آنا جانا ، کبھی تھا ، نہ ہے ، نہ ہو گا ترا ذکرِ خیر دلبر ، ہے ازل سے میرے لب پر کسی اور کا فسانہ […]

شکرِ خُدا کہ نعت نگہ دارِ حرف ہے

ورنہ تو حرف خود ہی سُبک سارِ حرف ہے واللہ ، تیرے نام سے ہے آبروئے نطق واللہ ، تیری نعت سے پندارِ حرف ہے تُو خامہ و بیاں کی ہے آخری طلب تُو ہی کرم نواز و شرَف بارِ حرف ہے اِک نام ہے جو کھولتا ہے بابِ معرفت ورنہ تو سب حجاب ہے […]