پیدا ہر ایک پیچ میں اک بات ہو گئی
کل شب وہ زلف حرف و حکایات ہو گئی وقفِ امورِ خیر رہی سرزمینِ دل بت خانہ اٹھ گیا تو خرابات ہو گئی پہنچے جو بے خودی کے مراتب کو حسن و عشق دونوں میں رات بھر کو مساوات ہو گئی اپنے محیطِ ذات میں گُم ہو گئے جو ہم اک ذاتِ بے کراں سے […]