خود کو یونہی تو نہیں محوِ سفر رکھا ہوا
سبز گنبد میں نے ہے پیشِ نظر رکھا ہوا بس یہی اک سلسلہ ہے معتبر رکھا ہوا دامنِ خیر الوریٰ ہے تھام کر رکھا ہوا اس لیے تازہ دم رہتا ہوں ہر دم دوستو! ذکر ان کا لب پہ ہے شام و سحر رکھا ہوا منزلیں خود راستہ میرا بھلا دیکھیں نہ کیوں؟ ان کی […]