شمعِ عرفان و یقیں دل میں جلا دے مولیٰ

راہ جو سیدھی ہے، وہ راہ بتا دے مولیٰ تجھ کو پانے میں یہ قوت ہے رکاوٹ کا سبب فتنہ و شر کو مرے دل سے مٹا دے مولیٰ یہ گرفتار ہے گردابِ مسائل میں ابھی کشتیِ زیست مری پار لگا دے مولیٰ ساری مخلوق کا دراصل ہے تو ہی خالق آگ نفرت کی ہر […]

شکست میرا مقدر سہی سنبھال مجھے

متاعِ صبر عطا کر دے ذوالجلال مجھے فقط تری ہی محبت ہو خانۂ دل میں اس آرزوئے حقیقی سے کر نہال مجھے انا سے دل کو مرے پاک رکھ کہ اس کے سبب عروج لے کے چلا جانبِ زوال مجھے درست کر مری فطرت میں خامیاں ہیں بہت نواز خوبیِ کردار و خوش خصال مجھے […]

میرے جنونِ شوق کو ہوش و حواس دے

لہجہ اگر ہو سخت تو اس میں مٹھاس دے دنیا کے گوشے گوشے میں فصلِ کپاس دے جو بے لباس ہوں انھیں اچھا لباس دے ایسی مسرتیں کہ جو ہوں وجہِ گمرہی مجھ کو نہیں قبول، مجھے دل اداس دے شدت کی جب لگی ہو مجھے روزِ حشر پیاس کوثر کے آبِ شیریں کا مجھ […]

اثر پذیر مجھے طرزِ گفتگو دیدے

مرے خدا، مرے لفظوں کو آبرو دیدے میں تیرے ذکر مسلسل میں ہی رہوں مصروف دعا یہ ہے تو مجھے ایسی جستجو دیدے وجود اپنا مٹا دوں تری محبت میں ہے التماس یہی ایسی آرزو دیدے وہ جس نے پرچم توحید کو بلند کیا مری رگوں میں وہی گردشِ لہو دیدے شجر سکوں کا بنا […]

شوقِ دیدار ہے طاقِ امید پر

منحصر ہے کرم لائقِ دید پر چہرۂ مصطفیٰ کی وہ تابانیاں آنکھ ٹکتی نہیں رشکِ خورشید پر صائمِ ہجر ہے کب سے بندہ ترا ہو مری عید بھی یا نبی عید پر ہم نے قرنوں کہی نعتِ سرور مگر نعت پہنچی نہیں اب بھی تمہید پر آج پھر اذنِ مدحت ہوا ہے عطا آج پھر […]

گذشتہ رات یادِ شاہ دل میں سو بسو رہی

زمینِ قلب دیر تک جلیسِ رنگ و بو رہی اذاں میں جس کا تذکرہ سنا تھا ماں کی گود میں مرے قلم کی نوک پر اسی کی گفتگو رہی کفِ طلب میں بے قرار تھیں مری عقیدتیں جبینِ دل کو سنگِ در پہ خم کی آرزو رہی صبا نے چوم لی ہے تیرے بام و […]

خوش قدم خوش جبیں ،آپ ہیں دلنشیں،آپ ہیں خوبرو

خوش قدم خوش جبیں ،آپ ہیں دلنشیں ، آپ ہیں خوبرو شاہِ کون ومکاں ، خاتم المرسلیں ، آپ ہیں خوبرو سرحدِ اعترافِ حقیقت پہ لے آیا حُسن آپکا یک زباں ہو کے بولے سبھی نکتہ چیں آپ ہیں خوبرو خانہءِ جان میں دہرِ ایمان میںحسنِ قرآن میں نور کا اک جہاں ہے جہاں، ہر […]

رحمتِ دو جہاں ، سیدِمرسلاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپ کے

رحمتِ دو جہاں ، سیدِ مرسلاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے والیِ بے کساں ، مَوجبِِ کن فکاں اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے ہے کوئی آبشارِ تمنّا فزا اور کوئی یہاں آب جوئے ریا پر جہانِ عطَش میں یمِ مہرباں ، اور کوئی نہیں ہے سوا آپکے آگہی ہے متاعِ زمان و مکاں […]

اس جہانِ مصائب میں غم ہیں بہت ،پھر بھی ایسا نہیں کہ سہارا نہیں

اے حبیبِ خدا احمدِ مجتبےٰ کوئی اور آپ کے بِن ، ہمارا نہیں اک طرف شدتِ جذبہِ عشق ہے اِک طرف ذاتِ اقدس کی تعظیم ہے سامنے جلوہِ حسنِ مطلوب ہے پر نگاہیں اٹھانے کا یارا نہیں ہم مسلماں بھٹک تو رہے ہیں مگر ، یا رسولِ خدا کیجئے در گزر ہم کو ہے ناز […]

اسے زما نہ بڑے ہی ادب سے ملتا ہے

اسے زمانہ بڑے ہی ادب سے ملتا ہے وہ جس کا شجرہ تمہارے نسب سے ملتا ہے ہمای فکر میں اپنا کوئی ہنر ہی نہیں ہمیں تو لفط بھی تیرے سبب سے ملتا ہے بہارِ ورد کو ہوتی ہے جب گلوں کی تلاش گلاب حرف خیابانِ لب سے ملتا ہے اتارتا ہے تھکن وہ درِ […]