ہر لمحہ زہرِ نو کوئی پی کر دکھائے تو
مر مر کے شہرِ ہجر میں جی کر دکھائے تو اپنے ہی ہاتھوں اپنا کلیجہ کیا ہے چاک چارہ گری کرے، کوئی سی کر دکھائے تو
معلیٰ
مر مر کے شہرِ ہجر میں جی کر دکھائے تو اپنے ہی ہاتھوں اپنا کلیجہ کیا ہے چاک چارہ گری کرے، کوئی سی کر دکھائے تو
یہاں آبِ ندامت میں جبینیں ڈوب جاتی ہیں یہ موجِ بے حسی بن کر سُونامی جان لے لے گی سفینے برطرف اِس میں زمینیں ڈوب جاتی ہیں
پتھر ہی رہو، شیشہ نہ بنو شیشوں کی ابھی رُت آئی نہیں اِس شہر میں خالی چہروں پر آنکھیں تو اُبھر آئی ہیں مگر آنکھوں میں ابھی بینائی نہیں خاموش رہو، آواز نہ دو کانوں میں سماعت سوتی ہے سوچوں کو ابھی الفاظ نہ دو احساس کو زحمت ہوتی ہے اظہارِ حقیقت کے لہجے سننے […]
صرف زباں کی نقالی سے بات نہ بن پائے گی حفیظؔ دل پر کاری چوٹ لگے تو میرؔ کا لہجہ آئے ہے
لب و لہجہ مگر ہاں ہو بہ ہو تھا
فرازؔ اب ذرا لہجہ بدل کے دیکھتے ہیں
گل و گلچیں کا گلہ بلبل خوش لہجہ نہ کر تو گرفتار ہوئی اپنی صدا کے باعث
آنکھ جیسے کوئی سمندر ہو اور لہجہ شراب تھا اس کا
آج کل تلخیاں فرماتا ہے
میری بات سنے گا کون