دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
معلیٰ
دل نا امید تو نہیں ناکام ہی تو ہے لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
یہ تیرے اختیار سے پہلے کی بات ہے
ہوتے ہوتے مرے قابو میں طبیعت ہوگی
دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں
تم تو کہتے تھے برا وقت گزر جاتا ہے
پھر بھی اک ہوک سی اُٹھے جو ترا نام سُنوں
کریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے؟
جان ہی جائے تو جائے درد دل اک یہی ہے اب دوائے درد دل بھاگتی ہے دور جس سے موت بھی وہ بلا ہے یہ بلائے درد دل
لگے گا لگنے لگا ہے مگر لگے گا نہیں
اب کہاں لے جا کے بیٹھیں ایسے دیوانے کو ہم