مضمون ِ محبت کے شمارے میں پڑھا ہے

مضمون محبت کے شمارے میں پڑھا ہے اک ورد مسلسل جو خسارے میں پڑھا ہے کنکر سے ابابیل گرا دیتے ہیں ہاتھی میں نے یہ ابھی تیسویں پارے میں پڑھا ہے یہ رسمی تعارف بھی ضروری تھا مگر دوست پہلے بھی کہیں آپ کے بارے میں پڑھا ہے حیرت ہے کہ ہم چار برس مل […]

مالک ترا کیا جاتا

مجھے پیڑ بنا دیتا احساس نہ دیتا تو کوئی چڑیا بنا دیتا کوئی بھیڑ بنا دیتا نہ درد پتہ ہوتا نہ عشق عطا ہوتا نہ شوقِ وفا ہوتا نہ جرمِ خطا ہوتا بے جان میں ہوتی تو نہ شعر و بیاں ہوتا نہ حرفِ زیاں ہوتا بے شک مجھے تنکے سے کمزور بنا دیتا عورت […]

لگاؤں ورثہ ء غم اس کے نام ، حاضر ہو

جسے عزیز ہے شہرت دوام حاضر ہو کچھ ایسے ہجر میرے گھر طواف کرتا ہے کہ جیسے شاہ کے آگے غلام حاضر ہو یہ قسط وار ہیں جو غم مجھے قبول نہیں مرے نصیب کا اب دکھ تمام حاضر ہو تو پورا شہر آجائے گا گنگناتا ہوا صدا لگاؤں گی اک خوش کلام حاضر ہو […]

زمانے بھر کی گردشوں کو رام کر کے چھوڑ دوں

میں چاہوں جب بھی ہر خوشی کو عام کر کے چھوڑ دوں یہ عشق تو نہیں کہ عمر بھر کو تھام لوں اسے میں ہاتھ تیرا سرسری سلام کر کے چھوڑ دوں وہ یاد جس کی بے خودی میں علم ہی نہ ہو سکے میں کتنے سارے کام ایک کام کر کے چھوڑ دوں میں […]

زخموں کو چین آیا نہ پورے ادھڑ سکے

اچھے سے دل بسا ہے نہ کھل کر اجڑ سکے اپنی کہانی اس لئے سب کو سنائی ہے یہ شہر مجھ کو دیکھ کے عبرت پکڑ سکے عجلت میں اس نے جانے کا یوں فیصلہ کیا ہم ہاتھ جوڑ پائے نہ پیروں میں پڑ سکے بے شک وہ یونیورسٹی میں داخلہ نہ لے اتنا پڑھا […]

روز تلخی یوں پینی پڑتی ہے

جیسے چائے میں چینی پڑتی ہے کون آئے مرے تعاقب میں راہ میں بے زمینی پڑتی ہے اس قدر تو نہیں جگہ دل میں جس قدر بے یقینی پڑتی ہے اور غربت کے چھید بڑھتے ہیں یہ قبا جب بھی سینی پڑتی ہے تیرے وعدے کی پاسداری کو زندگی روز جینی پڑتی ہے شاعری چھوٹتی […]