سوالی
علم کے شہر ہوں در پر حاضر آرزو سب سے جدا لایا ہوں بھیک تاثیر کی مجھ کو مل جائے کاسۂ حرف و نوا لایا ہوں
معلیٰ
علم کے شہر ہوں در پر حاضر آرزو سب سے جدا لایا ہوں بھیک تاثیر کی مجھ کو مل جائے کاسۂ حرف و نوا لایا ہوں
آفتابِ گل فشاں ہیں حضرتِ عبداللطیف اہلِ دل کے واسطے اہل نظر کے واسطے جلوہ گاہِ عارفاں ہیں حضرتِ عبداللطیف کیوں نہ روشن ہو زمینِ سندھ تاروں کی طرح اس زمیں کے آسماں ہیں حضرتِ عبداللطیف ذرّہ ذرّہ بھٹ کا گویا ہے لطافت درکنار لطف کے وہ رازداں ہیں حضرتِ عبداللطیف اس زمیں یہ کیوں […]
وحشی لمحوں کی معزولی سرد ہوا نفرت کا جہنم ِکھلے پیار کے پھول وہ آئے تو وحشی لمحے سب ٹھہرے معزول خیر صفات رُسول وہ جو چلے تو سب نے دیکھا عرش کو حرفِ سلام ان سے پہلے کب کوئی بندہ تھا قوسین مقام اُن کی عظمت کے آگے ہیں سب کی انائیں دُھول خیر […]
مجھے یقیں ہے وہ سن رہے ہیں نگاہِ خاموش کی صدائیں دُکھوں سے بوجھل مری نوائیں وہ جانتے ہیں ہزارہا درد و غم کی شمعیں فسردہ سینوں میں جل رہی ہیں یہ جسم و جاں جو شکست خوردہ ہیں سوچتے ہیں غم و الم کی جو دھوپ پھیلی ہوئی ہے اس میں کرم کے بادل […]
وہ آسمانِ دُعا کہ جس پر تمام عمروں تمام نسلوں کا سُکھ لکھا ہے وہ جس میں ہم اپنی سب تمنّاؤں اور جذبوں کو وسعتیں دے رہے ہیں سرشار ہو رہے ہیں وہ ایک شہرِ جزا کہ جس میں ہمارے آنسو (خوشی کے آنسو) چراغ بننے کے منتظر ہیں وہ آسمانِ دُعا ہے کس کا […]
ایک خواہش مرے دل میں برسوں سے ہے میری راتیں اُجالوں سے معمور ہوں میری آنکھیں تجلّی کی روشن سحر پا کے مسرور ہوں میری تاریک دنیا میں ایسی بھی ہو اک سحر جلوہ گر سب سے میں کہہ سکوں میرے خوابوں کی دہلیز پر رات بھر لمحے لمحے کو سورج بناتے رہے جگمگاتے رہے […]
جب ِکھلا شاخِ نظر پر اُن کی رویت کا گلاب گفتگو خوشبو کے لہجے میں سکھائی آپ نے خارِ نفرت چن لیے دے کر محبت کا گلاب خُلق کی خوشبو تمام اَدوار میں رچ بس گئی باغِ ہستی میں ِکھلا یوں ان کی شفقت کا گلاب زیست کے تپتے ہوئے صحرا میں ہے وجہِ سکوں […]
جو اُن کے ذکر کا رشتہ ہمارے لب سے ہے نہ اُن سے پہلے کوئی تھا نہ اُن کے بعد کوئی جُدا جہاں میں نبی کا مقام سب سے ہے ہو دل کا نور، نگاہوں کا نور، علم کا نور ہر ایک نور کو نسبت مہِ عرب سے ہے مری پکار درِ سیّدالوریٰ تک ہے […]
جلد دیکھوں گا میں شہر نبوی کا موسم فرش پر عرش کے حالات سنائے ہم کو اُن کے آنے سے گیا بے خبری کا موسم آپ نے آکے بتائے ہیں بصیرت کے رموز آپ سے سب کو ملا خوش نگہی کا موسم اُن کی نسبت سے دُعاؤں کا شجر سبز ہوا ورنہ ٹلتا ہی نہ […]
آپ کیا آئے کہ ہستی کا مقدر جاگ اُٹھا تیرگی سے خوف کھا کر جب پکارا آپ کو! جسم و جاں میں روشنی کا اک سمندر جاگ اُٹھا جب ہوئی ان کی صداقت کو شہادت کی طلب ہاتھ میں بوجہل کے ہر ایک کنکر جاگ اُٹھا رو کے سویا ہی تھا میں یادِ پیمبر میں […]