سوالیہ نشاں

تو ہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماںسوالیہ نشاں تو ہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماں مرے نصیب میں کب تک نہیں زمیں کی جناں دیارِ پاک میں کب ہوگی حاضری میری؟ ہمیشہ سامنے ہے اک ’’سوالیہ سا نشاں‘‘ توہی بتا دے مجھے اے وقار ارض و سماں

سر نہیں جھکتا ہے نہ جھکے، دل جان سے جھکتا لگتا ہے

راہِ نبی کا ذرّہ ذرّہ مجھ کو تو کعبہ لگتا ہے روح مجسم ہوتی ہے لمحات سلامی دیتے ہیں یادِ نبی جب آجاتی ہے کیا کہوں کیسا لگتا ہے جب وہ طلب فرمائیں گے میں اُڑ کے مدینے پہنچوں گا حاضریٔ فردوسِ بریں میں اپنا بھلا کیا لگتا ہے غرقِ ادب ہو جاتا ہے ہر […]

روحِ دیں ہے عید میلادُالنبی

کیا حسیں ہے عید میلادُالنبی سوزِ جاں ہے عید میلادُالنبی سازِ دیں ہے عید میلادُالنبی جس طرف دیکھو ملک محوِ سلام بالیقیں ہے عید میلادُالنبی وہ مکمل ہیں کتابِ معرفت شرحِ دیں ہے عید میلادُالنبی جس پہ قائم آسمانِ احدیت وہ زمیں ہے عید میلادُالنبی کیوں نظر آئیں نہ جلوے صاف صاف دُوربیں ہے عید […]

ذکر سرکار، دو عالم سے سوا رکھا ہے

یہ طریق اہلِ محبت نے روا رکھا ہے آپ کے نام سے مقبول ہے کاوش میری ورنہ میں کیا مرے اشعار میں کیا رکھا ہے قدم صاحب معراج نے بخشا ہے عروج ورنہ سچ پوچھو تو کونین میں کیا رکھا ہے ارضِ طیبہ کا تصوّر ہے سبق جینے کا حق نے مٹی میں بھی کیا […]

ذرّے بھی اس کو دیدۂ بینا کی روشنی

ہاتھ آئے جس کو خاک کفِ پا کی روشنی آنکھیں بچھا رہے ہیں مہ و برق و آفتاب کیسے بیان ہو مرے آقا کی روشنی عرش بریں پہ جلوے کچھ ایسے بکھر گئے اب تک ہے دن کا دل شبِ اسریٰ کی روشنی صرف ایک شہر طیبہ ہی مرکز نہیں کوئی جنت میں بھی ہے […]

دل و جانِ دو جہاں ہے کہ ہے جانِ ہر زمانہ

جہاں سر ادب سے رکھ دو وہیں ان کا آستانہ وہاں سر نہ کیسے خم ہو بصد عجز والہانہ جہاں ذرّے ذرّے میں ہے اک ادائے معجزانہ مجھے حشر کی تمازت بھلا کیا ستا سکے گی تیری رحمتوں کا ہوگا مرے سر پہ شامیانہ میں ہوں محو شوق سجدہ مجھے کچھ خبر نہیں ہے ترا […]

دریں چمن کہ پُر است از خروشِ زاغ و زغن

نوائے طُوطی و بانگِ ہزار باید و نیست اِس چمن (دُنیا) میں کہ جو زاغ و زغن (چیل کوؤں) کے دلخراش شور و غوغے سے پُر ہے طوطی و بلبل کی خوش کن صدائیں اور نغمات ہونے چاہیئں مگر افسوس کہ نہیں ہیں

خاکِ درِ حضرت جو مرے رُخ پہ ملی ہے

یہ فیض یہ عظمت مرا حقِ ازلی ہے جنت کے لیے مرتے ہو کیوں اہلِ محبت جنت کی بھی ّجنت مرے آقا کی گلی ہے انسان پہ ُکھلے کیسے مقامِ شہِ کونین یہ راز حقیقت ہے خفی ہے نہ جلی ہے آنکھوں سے نہیں اُٹھتی چمک اُٹھتی ہے دل میں گردِ رہِ طیبہ نہیں سونے […]

حمد و ثنا سے بھی کہیں اعلیٰ ہے تیری ذات

انسان کیا بیان کرے تیری ُکل صفات دل ہیژدہ ہزار زمانوں کو کیا کہے؟ اک لفظ ُکن سے وضع کیے تو نے شش جہات ہر برگِ ُگل میں تو نے سموئی الہٰیّت انسان کیسے سمجھے بھلا رنگِ درسیات تیرا عطا کیا ہوا ہر دُکھ بھی اے کریم واللہ اہلِ عشق کو ہے جانِ محسنات قطروں […]

حقیقتِ مصطفی کہوں کیا کہ اضطراب اضطراب میں ہے

شعاعیں ہر سو چمک رہی ہیں مگر وہ جلوہ حجاب میں ہے قریبِ مے خانۂ محمد نہ ہوش باقی نہ جوش ساقی جسے بھی دیکھو بصد عقیدت وہ مست دورِ شراب میں ہے نفس نفس ان کا نام نامی قدم قدم سجدۂ غلامی کلامِ مطلق میں جو لکھا ہے وہ درس میرے نصاب میں ہے […]