دل میں اب کوئی ترے بعد نہیں آئے گا

سنگِ ارزاں تہِ بنیاد نہیں آئے گا دن نکلتے ہی بُھلا دوں گا میں اندیشۂ روز سرحدِ صبح میں شب زاد نہیں آئے گا ایسے اک طاقِ تمنا پہ رکھ آیا ہوں چراغ بجھ گیا بھی تو مجھے یاد نہیں آئے گا حسنِ خود دار کو اِس دورِ خود آرا میں بہم ہنر مانی و […]

اِس کے ہر ذرّے سے پیمان دوبارہ کر لو

اپنی مٹی کو مقدر کا ستارہ کر لو برف سی جمنے لگی دل پہ نئے موسم کی ہجر کی آنچ کو بھڑکا کے شرارہ کر لو صحن بھر چاندنی کب راہ نوردوں کا نصیب آنکھ میں عکس قمر بھر کے گزارہ کر لو تلخیاں ہیں نئے منظر میں ہماری اپنی خوش نظر بن کے یہ […]