دل میں جو خلش پنہاں ہے کہیں، اس کا ہی تو یہ انجام نہیں
دل وقفِ غم و آلام ہوا، اب دل میں خوشی کا نام نہیں مرہونِ حقیقت ہیں اب ہم، باطل سے ہمیں کچھ کام نہیں احسانِ نگاہِ ساقی ہے، اب شغلِ مئے گل فام نہیں احساسِ زیاں تو رکھتے ہیں، لیکن یہ بروئے کار بھی ہو منزل کی طلب ہے دل میں مگر، منزل کی طرف […]