اک بہانہ تھا شام سے پہلے

لوٹ آنا تھا شام سے پہلے شام کے بعد جیت جاتے ناں ہار جانا تھا شام سے پہلے رات جو رونے دھونے بیٹھو گے غم سنانا تھا شام سے پہلے اب بھلا رات کیسے گزرے گی دل دُکھانا تھا شام سے پہلے چاہے تم بعد میں مُکر جاتے مان جانا تھا شام سے پہلے یہ […]

جسے مانگتا ہوں میں ہر دعا کی اخیر تک

مرے ذائچے کی وہ ابتدا نہیں ہو رہا تجھے بھولنا بھی کسی عذاب سے کم نہیں تجھے یاد کرنے کا سلسلہ تو کمال تھا میں اُسی کے ہاتھ میں دے چکا ہوں وجود بھی مجھے لے اُڑا ہے مگر ہوا نہیں ہو رہا مری بے بسی، مری بے کسی، مرے حوصلے مری آرزو، مری آبرو، […]