تم اپنا تبسم مرے اشکوں میں سمو دو
رونے کا سلیقہ مجھے معلوم نہیں ہے
معلیٰ
رونے کا سلیقہ مجھے معلوم نہیں ہے
ہم خون رو چکے ہیں محبت کی راہ میں
خلشِ نوکِ خار باقی ہے تم کو دیکھا ، ہنسا ، پر آنکھوں میں اشکِ بے اختیار باقی ہے
دنیا نے ہر حسابِ الم ، بیش و کم لیا
ہر لحظہ مجھے اشک بہانا نہیں آتا
تنہا تنہا اشک بہانا ہم کو اچھا لگتا تھا