پلا شراب کہ فصلِ بہار ہے ساقی
جنوں کے دور کا کیا اعتبار ہے ساقی یہ لال لال سی شے جو بھری ہے مینا میں علاجِ گردشِ لیل و نہار ہے ساقی
معلیٰ
جنوں کے دور کا کیا اعتبار ہے ساقی یہ لال لال سی شے جو بھری ہے مینا میں علاجِ گردشِ لیل و نہار ہے ساقی
بہار آ کر چلی جاتی ہے ویرانی نہیں جاتی
ہم کو بہارِ صبحِ تمنا سے کیا ملا
ہم خدائے بہار ہوتے تھے
خزاں گئی ہے فصلِ بہار آئی ہے
ورنہ یہ گل کدہ بیگانۂ رعنائی ہو
صبحِ بہار کے لیے شرطِ شب دراز ہے
تمہارے ساتھ وہ ہنگامۂ بہار گیا
چشموں کا رنگ و بو کا بہاروں کا شوق ہے انسانیت کے رِستے ہوئے زخم چھوڑ کر دانشوروں کو چاند ستاروں کا شوق ہے ہستی کی تلخیاں جو گوارا نہ ہو سکیں زندوں سے ہے نفور ، مزاروں کا شوق ہے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے