وہیں پر برق گرتی ہے جہاں اپنا نشیمن ہو
کہاں تک اب بھلا ہم روز شاخِ آشیاں بدلیں عجب کیا ہے کہ اب کچھ ہم قفس صیاد بن جائیں قفس والوں سے یہ کہہ دو کہ اندازِ فغاں بدلیں
معلیٰ
کہاں تک اب بھلا ہم روز شاخِ آشیاں بدلیں عجب کیا ہے کہ اب کچھ ہم قفس صیاد بن جائیں قفس والوں سے یہ کہہ دو کہ اندازِ فغاں بدلیں
ایسی ہی روشنی تھی جب میرا گھر جلا تھا