کتنے چہرے ہیں مرے گرد سوالوں کی طرح
کس کو اپناؤں ، کسے راہ کا پتھر جانوں
معلیٰ
کس کو اپناؤں ، کسے راہ کا پتھر جانوں
بہت سا کام لیتا ہے ، کمائی کچھ نہیں دیتا ترا چہرہ ہی اب تو بن گیا ہے میری بینائی نہ جب تک سامنے تو ہو ، دکھائی کچھ نہیں دیتا
ہے کس کی آستین میں خنجر ، تلاش کر
پہچانیے کہ آدمی یہ کس صدی کا ہے
لیکن چہرے پر جو کالی آنکھیں ہیں
تو قہقہوں کی شال سے چہرے کو ڈھانپ لے