چھٹکارا غمِ داغ سے ہو گا کیونکر
منہ دیکھیں گے اب مرگ و لحد کا کیونکر پیری میں سکت بھی نہیں دنداں بھی نہیں کاٹیں گے ہم اب عمر کا رشتہ کیونکر
معلیٰ
منہ دیکھیں گے اب مرگ و لحد کا کیونکر پیری میں سکت بھی نہیں دنداں بھی نہیں کاٹیں گے ہم اب عمر کا رشتہ کیونکر
پھر چمک اٹھیں نہ اس ظالم کو ہنستا دیکھ کر
دنیا نے ہر حسابِ الم ، بیش و کم لیا
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں