اک لمحۂ نشاط کی یہ سرگرانیاں
اچھا ہوا کہ سامنے دیوار و در نہ تھے
معلیٰ
اچھا ہوا کہ سامنے دیوار و در نہ تھے
اگر مرضی تری اے کاتب تقدیر ایسی ہے بوقتِ ذبح قاتل کا بڑھایا دل یہ کہہ کر کہ تُو قاتل ہے ایسا اور تری شمشیر ایسی ہے
بس اے تلاشِ یار نہ در در پھرا مجھے
اور آ گئے ہیں فرشتے بھی گوشوارے لیے
ایک ہلچل سی مچی رہتی ہے جب دل کے قریب اپنی کوتاہیٔ دانش کا گلہ کیا کیجیے بارہا ہم بھی گئے تھے درِ زنداں کے قریب
رشکِ افلاک ہیں وہ لوگ کہ جب دل چاہا تری دہلیز پہ پہنچے ، ترا در دیکھ آئے