جو سانس بھی آتی ہے گزرتی ہے قیامت
دن زیست کے یارب ہیں کہ لوہے کے چنے ہیں
معلیٰ
دن زیست کے یارب ہیں کہ لوہے کے چنے ہیں
سورج تمام وقت مجھے گھورتا رہا
’’نقشِ کہن‘‘کو دل سے مٹایا نہ جائے گا گزرے ہوئے دنوں کو بُھلایا نہ جائے گا
کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مرگئے ترے بھی دن گزرگئے مرےبھی دن گزر گئے
وہ رات ہے ، مجھے خوابوں میں آ کے ملتی ہے