میں تو سچی بات کہہ سکتا ہوں اب بھی برملا
فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں
معلیٰ
فرق آ جائے گا لیکن دوستوں کے درمیاں
یہ وہ اڑتے ہوئے بادل ہیں جو سایا نہیں کرتے
کیا دوستوں کے واسطے کرتا نہیں ہوں میں
دوستوں سے میرے دشمن کہیں بہتر نکلے
کچھ دوست آ کے ہنس گئے کچھ آ کے رو گئے
آئینۂ جہاں کو لگا زنگ دوستو
تم تو پتھر تھے تمہارے دوست بھی ویسے ہی ہیں
دوست جس کے بنو وہ دشمن ہے