اپنا سبُو بھی آئینۂ جم سے کم نہیں
رکھیں جو روبرو ، خبر شش جہات دے
معلیٰ
رکھیں جو روبرو ، خبر شش جہات دے
جو صدف آئے نظر اُس میں گُہر رکھ دیجیے
کچھ سرِ تختۂ گُل طے ہو گا
صبا کی طرح بھٹکتے ، جو جستجو کرتے
جس سے ترے دھوکے میں ہم آغوش رہے ہم
کل رات ناگہاں یہ معما بھی حل ہوا