بڑا کریم ہے وہ ، ہر شجر کو پھل دے گا
تجھے جمال دیا ہے ، مجھے غزل دے گا
معلیٰ
تجھے جمال دیا ہے ، مجھے غزل دے گا
ہوتا نہیں ہوں نیند سے بیدار خود سے میں
کریم میری ضرورت کو شرمسار نہ کر میں لفظ لفظ میں سچائیاں پروتا رہوں مری غزل کو غزل کر دے شاہکار نہ کر
پیشہ وروں پہ کیا بنی ، اہلِ زباں کو کیا ہوا
تمھارے ہونٹ بنائے ہیں جب غزل نہ ہوئی