اُسے کسی سے محبت نہ تھی مگر اُس نے
گلاب توڑ کے دُنیا کو شک میں ڈال دیا
معلیٰ
گلاب توڑ کے دُنیا کو شک میں ڈال دیا
میں نے اپنی کتاب مانگی تو اس نے اپنے گلاب مانگ لئے
نہ مرے زخم کھلے ہیں نہ ترا رنگ حنا موسم آۓ ہی نہیں اب کے گلابوں والے
میں نے پروین کی انکار وہاں رکھ دی ہے