تمام حالِ دلِ زار تُو تو جانتا ہے
میں کیا بتاؤں تجھے یار! تُو تو جانتا ہے
معلیٰ
میں کیا بتاؤں تجھے یار! تُو تو جانتا ہے
کچھ دے دلا کے حال کو ماضی بنا دیا
کچھ دوست آ کے ہنس گئے کچھ آ کے رو گئے
یہ ہم ہی جانتے ہیں جُدائی کے موڑ پر اِس دل کا جو بھی حال تجھے دیکھ کر ہُوا
یہ تری نوازش مختصر میرا درد اور بڑھا نہ دے