قبضہ ہے میرے ہاتھ پہ نادیدہ ہاتھ کا
خود پر چلا نہیں رہا تلوار خود سے میں پیدا ہوا ہوں جب سے مری خود سے جنگ ہے ڈرتا ہوں مان لوں نہ کہیں ہار خود سے میں
معلیٰ
خود پر چلا نہیں رہا تلوار خود سے میں پیدا ہوا ہوں جب سے مری خود سے جنگ ہے ڈرتا ہوں مان لوں نہ کہیں ہار خود سے میں
آہ ظالم نے مری اُلفت کا جھٹکا کر دیا
رازؔ ! کن یاروں کے مابین کھڑا ہوں ، میں بھی
دُنیا بھی جیسے اَندھے کباڑی کا مال ہو
جسم پتھر سا ہو گیا میرا
کــہنے لگا کہ آہ مـــرا ہاتـــھ جـــل گیا
حکم عدولی کرنے والے میں بگڑی شہزادی ہوں