حضور آپ ہیں خِلقت کا اوّلیں مطلع

ابھی خیال سے گزرا ہے یہ حسِیں مطلع خیال پاک ہو آنکھوں سے اشک جاری ہوں تو پھر مدینے سے آتا ہے بالیقیں مطلع مرے نبی کے نشانِ قدم کا شیدا ہے افق پہ چاند ستاروں کا دلنشیں مطلع ابد ہے مقطعِ شانِ نبی کا متلاشی ازل مقامِ محمد کا بہتریں مطلع حضور بولے کہ […]

تمام حمد اسی قادرِ عظیم کی ہے

وہ جس کے کُنْ میں ہیں تخلیقِ کائنات کے راز وہ جس نے سارے اندھیروں کو نور بخشا ہے جو اس کی شانِ کریمی پہ مان رکھتا ہے مرے خدا نے پھر اُس کو ضرور بخشا ہے تمام حمد اُسی خالقِ قدیم کی ہے کوئی بھی چیز کہ جس کو وہ پیدا کرتا ہے خلاف […]