دل کی حسرت نہ رہی دل میں مرے کچھ باقی
ایک ہی تیغ لگا ایسی اے جلاد کہ بس
معلیٰ
ایک ہی تیغ لگا ایسی اے جلاد کہ بس
میرے احساس سے خفا رہنا
زندگی تم سے عبارت ہے میری جاں لیکن پھر بھی حسرت ہے یہی ذکر تمھارا کر لیں
حسرتیں بے شمار لے کے چلے
عدم سے آئے تھے کیا کیا ہم آرزو کرتے