گلی سے ہجر گُذرا ہے یقیناََ
محبت بیٹھے بیٹھے ڈر گئی ہے
معلیٰ
محبت بیٹھے بیٹھے ڈر گئی ہے
مگر جناب! تمنا پہ اختیار کہاں
اور ہم نے ترے ہجر کا تہوار منایا
ہم شبِ ہجر میں تڑپے ہیں سحر ہونے تک
ہے میرے پاس اداسی کا بند و بست بہُت
تمہارا ہجر نبھایا تو سانولی ہوئی ہے
بس یہی موت کا بہانہ ہے