جذباتِ نو پر جوانی تھی ، وہ ہے
مرقوم جو اعجاز بیانی تھی ، وہ ہے اظہارِ کمالات زبانی نہ سہی پہلے جو طبیعت میں روانی تھی ، وہ ہے
معلیٰ
مرقوم جو اعجاز بیانی تھی ، وہ ہے اظہارِ کمالات زبانی نہ سہی پہلے جو طبیعت میں روانی تھی ، وہ ہے
کتنی حسین ہے ناں جوانی کی موت بھی
اب وقت پوچھتا ہے ، جوانی کدھر گئی
ابھی کی توبہ نہیں اعتبار کے قابل