پلا شراب کہ فصلِ بہار ہے ساقی
جنوں کے دور کا کیا اعتبار ہے ساقی یہ لال لال سی شے جو بھری ہے مینا میں علاجِ گردشِ لیل و نہار ہے ساقی
معلیٰ
جنوں کے دور کا کیا اعتبار ہے ساقی یہ لال لال سی شے جو بھری ہے مینا میں علاجِ گردشِ لیل و نہار ہے ساقی
جینے کے لیے چاہیے تھوڑا سا جنوں بھی
اس دور سے کیا چاہیں ، اس عہد سے کیا مانگیں اب خونِ رگِ جاں بھی قاصر ہے چہکنے سے اربابِ جنوں کس سے جینے کی ادا مانگیں
رکھا جہاں قدم ، اُسے صحرا بنا دیا
جنوں سے ملتے تو دریا تلاش کر لیتے
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے
خوشا کہ مستی فیضِ جنوں سے چیخ اٹھے یہ ناز طبع بلند بہ زعم خود نگہی زمانہ سازی دنیائے دوں سے چیخ آٹھے