خاک ہی آپ کے قدموں کو میسر نہ ہوئی
ورنہ دیوانے کی مٹھی میں بیاباں ہوتا
معلیٰ
ورنہ دیوانے کی مٹھی میں بیاباں ہوتا
ہم خاک بن کے کوئے بُتاں سے نکل گئے
بس اے تلاشِ یار نہ در در پھرا مجھے
کچھ لوگ جی اُٹھے مِرے مرنے کی دیر تھی
مت پوچھ ہم نے کیا کیا خزانے گنوا دئیے
آرزو جی میں ہو وہ جی نہ رہا
خاک ہوں، خاک ہی میں رہتا ہوں