خواب میں رات اسے میں نے خفا دیکھا تھا
دن میں وہ ساتھ رہا خواب کی دہشت نہ گئی
معلیٰ
دن میں وہ ساتھ رہا خواب کی دہشت نہ گئی
چمن چمن میں یونہی صبح و شام ہوتی رہی
ملا نہ نخلِ وفا کا کہیں سراغ مجھے
وہ کون شخص تھا جسے دیکھا تھا خواب میں
زندگی لاحاصلی کی دھوپ میں سنولا گئی
اور اب چـــاروں طرفــــــــ فصــل ہے حیرانی کی
لیکن کِسی کو خـــــواب چُرانے نہیں دِیا
لوگوں کو اُن کے خواب جگا کر دیئے گئے
ابھی تو میں اس کو صرف دنیا دکھا رہا ہوں
کیا حسیں خواب محبت نے دکھایا تھا ہمیں کھل گئی آنکھ تو تعبیر پہ رونا آیا