وقتِ وعدہ کل کسی کے پاؤں کی آئی صدا
خوش خیالی کا برا ہو ، میں یہ سمجھا آپ ہیں
معلیٰ
خوش خیالی کا برا ہو ، میں یہ سمجھا آپ ہیں
یہ کس منزل میں لے آئیں مجھے گمراہیاں میری
خیال یہ ہے کہ عزت سے مر کے دیکھتے ہیں
تیرے خیال نے مگر رات رُلا رُلا دیا
پہروں خیال یار سے باتیں کیا کیے