غرورِ حسن کی صورت مری انا کی طرح
وہ بے نیاز ہے مجھ سے مرے خدا کی طرح
معلیٰ
وہ بے نیاز ہے مجھ سے مرے خدا کی طرح
خدا قوموں پہ اپنا فیصلہ جاری نہیں کرتا
کیا ہوتا جو ورثہ میں ملتا نہ خدا مجھ کو
بجلی چمک رہی ہے گلستاں سے دور دور
ڈھونڈ لو اب نیا خدا کوئی
ملا جواب ہمیشہ رہے خدا کا نام
تجھ سا حسیں ہو، اور نہ دل بے قرار ہو
اگر تمہاری نہیں تو کسی کی بھی نہ رہوں
ترس ہی جاؤ مری شکل دیکھنے کیلئے
زمین زادے مری بات ہی نہیں سنتے