یہاں دو لفظ بھی سوجھے نہیں تم سے جدا ہوتے
وہاں شاعر نے پورا شعر اس منظر پہ لکھا ہے
معلیٰ
وہاں شاعر نے پورا شعر اس منظر پہ لکھا ہے
کریم میری ضرورت کو شرمسار نہ کر میں لفظ لفظ میں سچائیاں پروتا رہوں مری غزل کو غزل کر دے شاہکار نہ کر
الفاظ نے پہن لیے معنی نئے نئے
ہر صورت کی تعبیر نہاں ہے اس میں بچے کا ہے ہر بول معانی کا جہاں ہر لذتِ تقریر نہاں ہے اس میں