کسی لڑائی کا میں کیسے بن گیا ایندھن
کہ میں خدا کی طرف تھا نہ آدمی کی طرف سحر سے دو ہی قدم پہلے میرا دم ٹوٹا مجھے اندھیرے سے جانا تھا روشنی کی طرف
معلیٰ
کہ میں خدا کی طرف تھا نہ آدمی کی طرف سحر سے دو ہی قدم پہلے میرا دم ٹوٹا مجھے اندھیرے سے جانا تھا روشنی کی طرف
سانس لینے سے طے نہیں ہوگا
عشق حاصل ہے ، آپ لاحاصل
تعلقات کی سڑکیں نئی نئی ہیں ابھی
سو آئینے میں بھی حیرت ہے پتلیوں جیسی ہمارے بیچ اٹھائی ہے وقت نے دیوار میں جگنوں کی طرح ہوں ، وہ تتلیوں جیسی اور اس کے بعد کا موسم بیان سے باہر ہے میں دھوپ سرد دنوں کی، وہ کھڑکیوں جیسی ہوا بھی چلتی ہوئی اورچراغ جلتا ہوا وہ بولتی ہوئی ،آواز تلخیوں جیسی […]
ہمارے سامنے رکھی تھی حکمرانی بھی