موسمِ گل کا تذکرہ نہ کرو
دلِ مرحوم یاد آتا ہے اس کی محفل میں یارب ہے دل شاد جاتا ہے ، شاد آتا ہے
معلیٰ
دلِ مرحوم یاد آتا ہے اس کی محفل میں یارب ہے دل شاد جاتا ہے ، شاد آتا ہے
ہر سمت نگاہوں کی زنجیر نظر آئی
نہ حکایت کبھی ایسی نہ شکایت اتنی تیرِ مژگاں بھی کبھی اُن کو پہونچنے نہ دیا گو خود ہی سے ہے آنکھوں کو محبت اتنی
یہ ہے پیرِ مغاں کا آخری پیغام اے یارو نہ یہ شام و سحر ہو گی ، نہ باقی روز و شب ہوں گے کہ پیچھے چھوڑ دیں گے گردشِ ایام اے یارو
نکتہ وروں نے ہم کو سجھایا، خاص بنو اور عام رہو محفل محفل صحبت رکھو، دنیا میں گمنام رہو
اور ہوتے ہیں جو مَحفِل میں خموش آتے ہیں آندھیاں آتی ہیں جب حضرتِ جوشؔ آتے ہیں