یہ شور ، یہ ہنگامہ ، اس محشرِ دنیا میں
اک عمر سے بہتر ہے اک لمحۂ تنہائی
معلیٰ
اک عمر سے بہتر ہے اک لمحۂ تنہائی
کوئی دامن نہ پکڑ لے سرِ محشر دیکھو اُن کو دشمن سے جو اُلفت ہے پروا نہ کرو اے رساؔ تم بھی کسی اور پہ مر کر دیکھو
حشر سے پہلے ہی اک محشر بپا ہونے لگے
اور سکوں ایسا کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے