یقین ہے یہ گماں نہیں ہے
وجود تیرا کہاں نہیں ہے یہاں نہیں یا وہاں نہیں ہے کہاں کہاں تو عیاں نہیں ہے ہیں کور باطن ہمیں خدایا ! تو ہم سے ورنہ نہاں نہیں ہے ہے ذرّے ذرّے پہ فیض تیرا کرم سے خالی جہاں نہیں ہے بشر ہی ٹھہرا حریص ورنہ تو اُس پہ کب مہرباں نہیں ہے زمیں، […]