یقین ہے یہ گماں نہیں ہے

وجود تیرا کہاں نہیں ہے یہاں نہیں یا وہاں نہیں ہے کہاں کہاں تو عیاں نہیں ہے ہیں کور باطن ہمیں خدایا ! تو ہم سے ورنہ نہاں نہیں ہے ہے ذرّے ذرّے پہ فیض تیرا کرم سے خالی جہاں نہیں ہے بشر ہی ٹھہرا حریص ورنہ تو اُس پہ کب مہرباں نہیں ہے زمیں، […]

تو خدا ہے خدا ، تو کہاں ، میں کہاں

میں ہوں بندہ ترا ، تو کہاں ، میں کہاں تو ہی معبود ہے ، تو ہی مسجود ہے میں ہوں وقفِ ثنا ، تو کہاں ، میں کہاں نور ہی نور ہے ذاتِ باری تری خاک سے میں بنا ، تو کہاں ، میں کہاں کیا حقیقت مری ، میں فنا ہی فنا تو […]

ترا بندہ ہے تیرا ڈر رکھنے والا

کہ ہے سب پہ تو ہی اثر رکھنے والا تو خالق ، تو رازق ، تو مالک ، تو حاکم تو خلقت پہ اپنی نظر رکھنے والا زمیں سے فلک تک تری حکمرانی تو ارض و سما کی خبر رکھنے والا تو ہی گردشِ وقت پر بھی ہے غالب تو دنیا کی شام و سحر […]