موت صدیوں سے تعاقب میں ہے لیکن فارس
زندگی اپنی حفاظت کا ہُنر جانتی ہے
معلیٰ
زندگی اپنی حفاظت کا ہُنر جانتی ہے
آگ میں جنّات ، بستی میں بشر سو جائیں گے موت کے خشقے کو دیکھیں گے جبینِ ماہ پر چادرِ ابرِ رواں سب اوڑھ کر سو جائیں گے
زندہ دل ہنستے ہنستے گذر جائیں گے موت سے بھی مریں گے نہیں زورؔ ہم زندگی میں جو کچھ کام کر جائیں گے
قبضہ میں آئے یار نا قابو میں آئے دل
کتنی حسین ہے ناں جوانی کی موت بھی
مگر تم کو نہیں لگتا ؟ جدائی موت ہوتی ہے
بس یہی موت کا بہانہ ہے