رُخِ احمد کو آئینہ بنانے کا خیال آیا

چراغِ بزمِ امکاں کو جلانے کا خیال آیا حریمِ ناز کے پردے اُٹھانے کا خیال آیا خدا کو نور جب اپنا دکھانے کا خیال آیا رُخِ احمد کو آئینہ بنانے کا خیال آیا انہیں کے واسطے پیدا کیا سارے زمانے کو انہیں پر ختم فرمایا زمانے کے فسانے کو سجی بزمِ جہاں محبوب کی عزت […]

لب پہ جب اُن کا نام ہوتا ہے

بات ہوتی ہے کام ہوتا ہے جو نبی کا غلام ہوتا ہے قابلِ احترام ہوتا ہے اُن کا جلوہ تو عام ہوتا ہے آنکھ والوں کا کام ہوتا ہے اُس کے حق میں کلام کیا ہوتا حق سے جو ہمکلام ہوتا ہے تجھ کو جنت مجھے وہ در واعظ اپنا اپنا مقام ہوتا ہے پاس […]

شانِ سرکارِ بطحیٰ بڑی چیز ہے

دونوں عالم کا آقا بڑی چیز ہے میری لوحِ جبیں کی یہ قسمت کہاں اُن کی خاکِ کفِ پا بڑی چیز ہے تاجدارانِ عالم کے کیا مرتبے اُن کی گلیوں کا منگتا بڑی چیز ہے راج والوں کی نعمت کوئی شے نہیں کملی والے کا ٹکڑا بڑی چیز ہے چاند تاروں میں ایسے اُجالے کہاں […]

جنہیں ان کے نظارے ہو گئے ہیں

وہ ذرے چاند تارے ہو گئے ہیں جسے تیرا سہارا مل گیا ہے اُسے کتنے سہارے ہو گئے ہیں تمہارے در کا ٹکڑا اللہ اللہ غریبوں کے گزارے ہو گئے ہیں نہیں ہے جن کا کوئی اس جہاں میں وہ بے کس سب تمہارے ہو گئے ہیں جدھر کو اُٹھ گئی ہیں وہ نگاہیں ادھر […]