دل مرا ، جاں مری ، اُن کے نام
آخری سانس بھی اُن کے نام
معلیٰ
آخری سانس بھی اُن کے نام
کسی کے نام سے آرائشِ بیاں تھی کبھی
وہ حسنِ اتفاق سے منصور ہو گئے
صد شکر کہ مجھ پر کوئی الزام نہیں ہے
میں نے اک نام لکھا اور قلم توڑ دیا
ملا جواب ہمیشہ رہے خدا کا نام
جو شخص مرے نام سے مشہور ہوا ہے
پھر بھی اک ہوک سی اُٹھے جو ترا نام سُنوں
تمہارے لکھنے سے معتبر نام ہوگیا ہے