نظر پڑی ہے تو جی بھر کے دیکھ لو فارس
وہ کم نُما نظر آتا ہے بار بار کہاں
معلیٰ
وہ کم نُما نظر آتا ہے بار بار کہاں
ہم کو ہمارے دیدۂ بینا سے کیا ملا
لیکن دل و نظر کو کشادہ بنائیے
شاعر ہوں مجھ کو شعر و سخن میں کمال دے اس کے سوا نہیں ہے طلب کچھ سکون کی اک آگہی جو قلب و نظر کو اجال دے
آئینۂ جہاں کو لگا زنگ دوستو
اک دھند کا پھیلا ہے جہاں نظروں میں کس دشتِ بلا سے ہوں گذر کر آیا ہے ریت کا دریا سا رواں نظروں میں
اور پھر بھی سوچتا کوئی نہیں تیرگی حدّ نظر تک تیرگی اور پھر بھی دیکھتا کوئی نہیں
بچھڑنے والے نے ملبہ خدا پہ ڈال دیا