اب سے نہیں اول سے ہوں مشتاقِ نظارہ
آنکھوں سے نہیں نیند مقدر سے اُڑی ہے
معلیٰ
آنکھوں سے نہیں نیند مقدر سے اُڑی ہے
بچوں کے سسکنے کی آواز نہیں آتی
ہوتا نہیں ہوں نیند سے بیدار خود سے میں
آگ میں جنّات ، بستی میں بشر سو جائیں گے موت کے خشقے کو دیکھیں گے جبینِ ماہ پر چادرِ ابرِ رواں سب اوڑھ کر سو جائیں گے
لوگوں کو اُن کے خواب جگا کر دیئے گئے
مرا بدن تری انگڑائیوں نے توڑ دیا
تھی وصل میں بھی فکرِ جدائی تمام شب وہ آئے تو بھی نیند نہ آئی تمام شب