ریت پر سلسلۂ آبِ رواں ڈھونڈتا ہوں
اپنے اسلاف کے قدموں کے نشاں ڈھونڈتا ہوں
معلیٰ
اپنے اسلاف کے قدموں کے نشاں ڈھونڈتا ہوں
اک دھند کا پھیلا ہے جہاں نظروں میں کس دشتِ بلا سے ہوں گذر کر آیا ہے ریت کا دریا سا رواں نظروں میں
ہَماری لاش پہ ڈُھونڈو نا اُنگلیوں کے نِشاں ہمیں خَبر ہے عزیزو یہ کام کِس کا ہے