کتنے چہرے ہیں مرے گرد سوالوں کی طرح
کس کو اپناؤں ، کسے راہ کا پتھر جانوں
معلیٰ
کس کو اپناؤں ، کسے راہ کا پتھر جانوں
میں لگا پتھر کو پہلے ، پھر مجھے پتھر لگا
وقت کی صلیبوں پر خوں ہوا ہزاروں کا
ہم تو وہ کونپل ہیں جو پتھر سے نکلے ہیں
یارو کسی جانب سے بھی پتھر نہیں آیا
یارو انہیں کے ہاتھ سے پتھر لگے مجھے
اہلِ خرد سے کچھ نہ بنا ، تو پتھر لے کر دوڑ پڑے
احباب تو مزار کا پتھر بدل گئے
جسم پتھر سا ہو گیا میرا
تم تو پتھر تھے تمہارے دوست بھی ویسے ہی ہیں